• Feed RSS


مولائے کائنات علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“تعجب ہے اس آدمی پر جو اس بات کی خواہش رکھتا ہے کہ اس کے دوست و احباب بہت سے ہوں اور پھر بھی وہ علماء و اولیاء و پرہیزگاروں کی صحبت کیوں اختیار نہیں کرتا ان کے فضائلِ غنیمت سمجھنے کے قابل ہیں اور ان کے علوم رہنمائی کرتے ہیں۔“
یہ تمام اصول و شرائط شریعت نے اس ہی وجہ سے بتائے ہیں کہ ہر انسان اس بات کی لیاقت نہیں رکھتا کہ کس کی دوستی اختیار کی جائے؟ لٰہذا اگر کبھی دوست بنانا مقصود ہو تو ان شرائط کوملحوظ خاطر رکھا جائے کیونکہ جس کسی کو دوست بنایا جا رہا ہو تو اس میں کچھ تو ایسی صفات ہوں جس کی وجہ سے اس میں رغبت محسوس ہو۔

ایک جیسی طبیعتوں میں آپس میں کشش ہوتی ہے
ایک روایت کے مطابق
“اگر ایک مومن اس مجلس میں جائے جس میں سو منافق ہوں اور ایک ایماندار تو وہ اسی ایماندار کے پاس جا کر بیٹھے گا اور ایک منافق اسی مجلس میں جائے جس میں سو ایماندارہوں اور ایک منافق تو وہ اسی منافق کے پاس آ کر ہم نشست ہو گا۔“
اس سے معلوم ہوا کہ مثل کی طرف کشش ہوتی ہے اگرچہ اس کو علم نہ ہو جیسے پرندے، کہ اڑنے میں دو قسم کے پرندے کبھی متفق نہیں ہوتے اور بغیر کسی مناسبت کے ان کی پرواز ایک ساتھ نہیں ہوتی ہے۔

اگر تمام صفات ایک شخص میں نہ ملیں تو کیا کریں؟
کیونکہ یہ تمام صفات اک ہی شخص میں تو جمع نہیں ہو سکتیں لٰہذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہمیں دوستی کی جو بھی غرض ہے، اس کی‌ صحیح پہچان ہو مثلاََ
1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر دوستی کا مقصد صرف دوستی ہے
تو بہتر ہے کسی نیک اخلاق والے کی دوستی اختیار کریں رسولِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا
“تمہارے ہمنیشن اور دوست صالح اور نیک ہونے چاہئیں اور تمہیں چاہیئے کہ زاہد اور پرہیزگار لوگوں کی جانب بھائی چارے اور رفاقت کا ہاتھ بڑھاؤ کیونکہ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں فرمایا کہ قیامت کے دن سب دوست ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے بجز پرہیزگار لوگوں کے، جن کی دوستی پائیدار ہوگی۔“
2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر دوستی کا مقصد صحبتِ دینی ہو
تو پھر ایسے شخص کی تلاش کی جائے جو علم بھی رکھتا ہو اور پرہیز گار بھی ہو۔
3۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر مھض دنیا ہی کے لئے دوستی اختیارکرنی ہے
تو پھر بہتر ہے کہ وہ کسی اہلِ کرم ہی کو ڈھونڈ لے جو سلیم الطبع ہو۔

دوستی میں احتیاط و ہوشیاری کی اہمیت
تجربہ کار اور عقل مند لوگ دوستوں کے انتخاب میں بڑی احتیاط برتتے ہیں اور اگر کسی سے دوستی پیدا کرنا اور اس کا سچا دوست بننا چاہیں تو عقل و ہوش سے کام لیتے ہیں اور جلد بازی اور بے جا احساسات کو اس امر پر اثر انداز نہیں ہونےدیتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے پہل اس سے مانوس ہوتے ہیں تاکہ اس کے طرزِ فکر،اخلاق اور گزشتہ زندگی کے حالات و واقعات سے آگاہ ہو سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اسے مختلف طریقوں سے آزماتے ہیں اور جب دیکھتے ہیں کہ وہ دوستی کی تمام شرائط پر پورا اترتا ہے اور اس کی صلاحیتوں کا اندازہ لگا لیتے ہیں پھر اس سے دوستی قائم کرتے ہیں اور ایسی دوستی تمام خطرات سے پاک، مضبوط اور پائیدار ہوتی ہے۔
مولائے کائنات علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“جو شخص صحیح آزمائش کے بعد دوستی اور رفاقت کی بنیاد ڈالتا ہے اس کی رفاقت پائیداراور دوستی مستحکم ہوتی ہے۔“
امام صادق علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“ تمہارے جاننے والوں میں جس شخص کو تم پر تین بار غصہ آیا ہو لیکن اس نے تمارے بارے میں کوئی ناروا بات نہ کہی ہو تو تم اس کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا سکتے ہو اور اس کے ساتھ دوستی ک بنیاد رکھ سکتے ہو۔“

دوستی میں اعتدال اور میانہ روی ضروری ہے
دوستی میں اعتدال اور میانہ روی ضروری ہے یہ ایک ایسا نکتہ ہے کہ جسے ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے۔
کیونکہ ممکن ہے کہ بے اعتدالی کا نتیجہ ناقابلِ تلافی نقصان کی صورت میں نکلے جو انسان کو تباہی سے دوچار کر دے۔
دوستی ہو جانے کے بعد مندرجہ ذیل احتیاطوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوست پر ایک حد تک اعتماد کریں
دوستی کے دوران دوست پر اسی حد تک اعتماد کرنا چاہیے کہ اگر بعد مین رنجیدگی کی بناء پر ایک دوسرے سے جدائی بھی ہو جائے تو وہ کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔
امام علی علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“جس دوست سے تمہیں دلی تعلق ہو اس کے ساتھ دوستی کا اظہار اعتدال کی حد میں اور مصلحت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کرو کیونکہ ممکن ہے کہ ایک دن وہ تمہارا دشمن بن جائے اور جس شخص سے تمہاری دوستی نہ ہو اس سے سرد مہری برتنے میں بھی اعتدال سے کام لو کیونکہ ممکن ہے کہ ایک دن وہ کدورت چھَٹ جائے اور وہ تمہارا دوست بن جائے۔“
2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب راز دوست کو مت بتاؤ
شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ
“م اپنا ہر راز دوست کو نہ بتاؤ کیونکہ کیا خبر وہ کس وقت تمہارا دشمن بن جائے اور ہر وہ تکلیف جو تم اپنے دشمن کو پہنچا سکتے ہو مت پہنچاؤ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ ایک دن تمہارا دوست بن جائے۔“
یہی وجہ ہے کہ ایک بڑے سردار نے جو میدانِ جنگ کی طرف جا رہا تھا لوئی چہاردھم سے کہا تھا کہ آپ میرے دوستوں کے شر سے میری حفاظت کریں، دشمنوں کا مجھے کوئی خوف نہیں۔
امام علی علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“اپنے ووستوں پر ساری محبت نچھاور کر دو اس پر مکمل اعتماد مت کرو اس کے ساتھ ہر محاظ سے مساوات برتو اور اس کی مدد کرو لیکن اسے اپنے تمام رازوں سے آگاہ نہ کرو۔“
3۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے دوست کو کبھی رنجیدہ مت کرو
مولا علیہ علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“جب انسان اپنے دوست کو رنجیدہ کر دے تو گویا اس نے جدائی کے لئے راستہ ہموار کر دیا۔“
کیونکہ اول تو قابلِ اعتماد دوست کا ملنا ہی مشکل ہے لیکن اس سے زیادہ مشکل چیز اس کے ساتھ دوستی کو برقرار رکھنا ہے۔
مولا علی علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“کمزور ترین شخص وہ ہے جو اپنے دوست نہ بنا سکے اور اس سے زیادہ کمزور وہ شخص ہے جو اپنے حاصل کردہ دوستوں کو کھو دے۔“
4۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چغلخوروں کی بات پر توجہ نہ دیں
ایسے لوگ بھی ہمارے معاشرے میں ہیں جنہیں دوسروں کے مخلصانہ اور دوستانہ تعلقات نہیں بھاتے اور وہ ہمیشہ ان کے درمیان پُھوٹ ڈالنے کی فکر میں رہتے ہیں۔ وہ سچی، جھوٹی باتیں ایک دوسرے کے پا جا کر لگاتے ہیں اور اس طرح انہیں ایک دوسرے سے بددل کر دیتے ہیں۔
مولا علی علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“جو شخص چغلخوروں کی باتوں کی طرف توجہ دے گا وہ اپنے عزیز دوست کو کھو بیٹھے گا۔“
5۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جدائی کا باعث بننے والے افعال سے اجتناب کریں
ایک دن حارث بن اعور نے جو مولا علی علیہ اسلام کے اصحاب میں سے تھے، کہا کہ یا امیرالمومنین!میں آپ کو دوست رکھتا ہوں۔
توجب اس نے دوستی کا ذکر چھیڑا تو مولا علی علیہ اسلام نے مندرجہ ذیل جملوں مں ان کاموں کی تشریح فرمائی جو دوستوں کو ایک دوسرے کے بارے میں انجام نہیں دینے چاہیئیں۔ فرمایا، اگر تم کسی کو دوست رکھتے ہو تو
1۔۔۔۔۔۔۔ اس سے مخالفت اور دشمنی نہ کرو
2۔۔۔۔۔۔۔ اس کا مذاق نہ اڑاؤ
3۔۔۔۔۔۔۔ اس سے جھگڑا نہ کرو
4۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ نا مناسب شوخی نہ کرو
5۔۔۔۔۔۔۔ اسے پست اور حقیر مت سمجھو
6۔۔۔۔۔۔۔ اس پر برتری اور فوقیت حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو
کیونکہ یہ کام دوستی کے مقام سے مناسبت نہیں رکھتے اور دوستوں کے تعلقات بگاڑ دیتے ہیں۔ ایک دانشور کا کہنا ہے کہ
“بیشتر لوگ تمسخر پر مبنی بات پر نقصان برداشت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔“
اور ایک لاطینی زبان کی مشہور مثل ہے کہ
“تمسخر دوستی کا خون کر دیتا ہے۔“
6۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوست کی ہر بات پر تنقید مت کریں
دوست کی ہر بات میں مِین میخ نکالنا اور اس کی معمولی غلطیوں اور لغزشوں سے درگزر نہ کرنا اتنی بڑی غلطی ہے جو بعض اوقات دوستی کے خاتمہ کا سبب بن جاتی ہے۔
امیرالمومنین علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“اپنے دوست کا عذر (اگر اس سے کوئی لغزش سر زد ہو جائے تو) قبول کر لو اور اپنی لغزش کے لئے کوئی عذر پیش نہ کرسکے تو خود اس کے لئے کوئی عذر گھڑ لو۔“



گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کی طرف دوڑتا ہے۔ ہماری جو شامت آئی تو ایک دن اپنے پڑوسی لالہ کرپا شنکرجی برہمچاری سے برسبیل تذکرہ کہہ بیٹھے کہ "لالہ جی امتحان کے دن قریب آتے جاتے ہیں، آپ سحرخیز ہیں، ذرا ہمیں بھی صبح جگادیا کیجیئے۔"وہ حضرت بھی معلوم ہوتا ہے نفلوں کے بھوکے بیٹھے تھے۔ دوسرے دن اٹھتے ہی انہوں نے ایشور کا نام لے کر ہمارے دروازے پر مکابازی شروع کردی کچھ دیر تک تو ہم سمجھے کہ عالم خواب ہے۔ ابھی سے کیا فکر، جاگیں تو لاحول پڑھ لیں گے۔ لیکن یہ گولہ باری لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی گئی۔ اور صاحب جب کمرے کی چوبی دیواریں لرزنے لگیں، صراحی پر رکھا گلاس جلترنگ کی طرح بجنے لگا اور دیوار پر لٹکا ہوا کیلنڈر پنڈولم کی طرح ہلنے لگا تو بیداری کا قائل ہونا ہی پڑا۔ مگر اب دروازہ ہے کہ لگاتار کھٹکھٹایا جا رہا ہے۔ میں کیا میرے آبااجداد کی روحیں اور میری قسمت خوابیدہ تک جاگ اٹھی ہوگی۔ بہتر آوازیں دیتا ہوں۔۔۔ "اچھا!۔۔۔ اچھا!۔۔۔ تھینک یو!۔۔۔ جاگ گیا ہوں!۔۔۔ بہت اچھا! نوازش ہے!" آنجناب ہیں کہ سنتے ہی نہیں۔ خدایا کس آفت کا سامنا ہے؟ یہ سوتے کو جگا رہے ہیں یا مردے کو جلا رہے ہیں؟ اور حضرت عیسی بھی تو بس واجبی طور پر ہلکی سی آواز میں "قم" کہہ دیا کرتے ہوں گے، زندہ ہوگیا تو ہوگیا، نہیں تو چھوڑ دیا۔ کوئی مردے کے پیچھے لٹھ لے کے پڑجایا کرتے تھے؟ توپیں تھوڑی داغا کرتے تھے؟ یہ تو بھلا ہم سے کیسے ہوسکتا تھا کہ اٹھ کر دروازے کی چٹخنی کھول دیتے، پیشتر اس کے کہ بستر سے باہر نکلیں، دل کو جس قدر سمجھانا بجھانا پڑتا ہے۔ اس کا اندازہ کچھ اہل ذوق ہی لگا سکتے ہیں۔ آخرکار جب لیمپ جلایا اور ان کو باہر سے روشنی نظر آئی، تو طوفان تھما۔
اب جو ہم کھڑکی میں سے آسمان کو دیکھتے ہیں تو جناب ستارے ہیں، کہ جگمگا رہے ہیں! سوچا کہ آج پتہ چلائیں گے، یہ سورج آخر کس طرح سے نکلتا ہے۔ لیکن جب گھوم گھوم کر کھڑکی میں سے اور روشندان میں سے چاروں طرف دیکھا اور بزرگوں سے صبح کاذب کی جتنی نشانیاں سنی تھیں۔ ان میں سے ایک بھی کہیں نظر نہ آئی، تو فکر سی لگ گئی کہ آج کہیں سورج گرہن نہ ہو؟ کچھ سمجھ میں نہ آیا، تو پڑوسی کو آواز دی۔ "لالہ جی!۔۔۔ لالہ جی؟"
جواب آیا۔ "ہوں۔"
میں نے کہا "آج یہ کیا بات ہے۔ کچھ اندھیرا اندھیرا سا ہے؟"
کہنے لگے "تو اور کیا تین بجے ہی سورج نکل آئے؟"
تین بجے کا نام سن کر ہوش گم ہوگئے، چونک کر پوچھا۔ "کیا کہا تم نے؟ تین بجے ہیں۔"
کہنے لگے۔ "تین۔۔۔ تو۔۔۔ نہیں۔۔۔ کچھ سات۔۔۔ ساڑھے سات۔۔۔ منٹ اوپر تین ہیں۔"
میں نے کہا۔ "ارے کم بخت، خدائی فوجدار، بدتمیز کہیں کے، میں نے تجھ سے یہ کہا تھا کہ صبح جگا دینا، یا یہ کہا تھا کہ سرے سے سونے ہی نہ دینا؟ تین بجے جاگنا بھی کوئی شرافت ہے؟ ہمیں تو نے کوئی ریلوے گارڈ سمجھ رکھا ہے؟ تین بجے ہم اٹھ سکا کرتے تو اس وقت دادا جان کے منظور نظر نہ ہوتے؟ ابے احمق کہیں کے تین بجے اٹھ کے ہم زندہ رہ سکتے ہیں؟ امیرزادے ہیں، کوئی مذاق ہے، لاحول ولاقو"۔
دل تو چاہتا تھا کہ عدم تشدد وتشدد کو خیرباد کہہ دوں لیکن پھر خیال آیا کہ بنی نوع انسان کی اصلاح کا ٹھیکہ کوئی ہمیں نے لے رکھا ہے؟ ہمیں اپنے کام سے غرض۔ لیمپ بجھایا اور بڑبڑاتے ہوئے پھر سوگئے۔
اور پھر حسب معمول نہایت اطمینان کے ساتھ بھلے آدمیوں کی طرح اپنے دس بجے اٹھے، بارہ بجے تک منھ ہاتھ دھویا اور چار بجے چائے پی کر ٹھنڈی سڑک کی سیر کو نکل گئے۔
شام کو واپس ہاِسٹل میں وارد ہوئے۔ جوش شباب تو ہے ہی اس پر شام کا ارمان انگیز وقت۔ ہوا بھی نہایت لطیف تھی۔ طبعیت بھی ذرا مچلی ہوئی تھی۔ ہم ذرا ترنگ میں گاتے ہوئے کمریمیں داخل ہوئے کہ
بلائیں زلف جاناں کی اگر لیتے تو ہم لیتے
کہ اتنے میں پڑوسی کی آواز آئی۔ "مسٹر"۔
ہم اس وقت ذرا چٹکی بجانے لگے تھے۔ بس انگلیاں وہیں پر رک گئیں۔ اور کان آواز کی طرف لگ گئے۔ ارشاد ہوا "یہ آپ گا رہے ہیں؟" (زور "آپ" پر)
میں نے کہا۔ "اجی میں کس لائق ہوں۔ لیکن خیر فرمائیے؟" بولے "ذرا۔۔۔ وہ میں۔۔۔ میں ڈسٹرب ہوتا ہوں ۔ بس صاحب۔ ہم میں جو موسیقیت کی روح پیدا ہوئی تھی فورا مر گئی۔ دل نے کہا۔ "اونابکار انسان دیکھ پڑھنے والے یوں پڑھتے ہیں "صاحب، خدا کے حضور گڑگڑا کر دعا مانگی کہ "خدایا ہم بھی اب باقاعدہ مطالعہ شروع کرنے والے ہیں۔ہماری مدد کر اور ہمیں ہمت دے۔"آنسو پونچھ کر اور دل کو مضبوط کرکے میز کے سامنے آبیٹھے، دانت بھینچ لئے، نکٹائی کھول دی، آستینیں چڑھا لیں، لیکن کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کریں کیا؟ سامنے سرخ سبز، زرد سب ہی قسم کی کتابوں کا انبار لگا تھا۔ اب ان میں سے کوئی سی پڑھیں؟ فیصلہ یہ ہوا کہ پہلے کتابوں کو ترتیب سے میز پر لگادیں کہ باقاعدہ مطالعہ کی پہلی منزل یہی ہے۔بڑی تقطیع کی کتابوں کو علیحدہ رکھ دیا۔ چھوٹی تقطیع کی کتابوں کو سائز کے مطابق الگ قطار میں کھڑا کردیا۔ ایک نوٹ پیپر پر ہر ایک کتاب کے صفحوں کی تعداد لکھ کر سب کو جمع کیا پھر ۔اپریل تک کے دن گنے۔ صفحوں کی تعداد کو دنوں کی تعداد پر تقسیم کیا۔ ساڑھے پانچ سو جواب آیا، لیکن اضطراب کی کیا مجال جو چہرے پر ظاہر ہونے پائے۔ دل میں کچھ تھوڑا سا پچھتائے کہ صبح تین بجے ہی کیوں نہ اٹھ بیٹھے لیکن کم خوابی کے طبی پہلو پر غور کیا۔ تو فورا اپنے آپ کو ملامت کی۔ آخرکار اس نتیجے پر پہنچے کہ تین بجے اٹھنا تو لغویات ہیالبتہ پانچ، چھ، سات بجے کے قریب اٹھنا معقول ہوگا۔ صحت بھی قائم رہے گی، اور امتحان کی تیاری بھی باقاعدہ ہوگی۔ ہم خرماد ہم ثواب۔
یہ تو ہم جانتے ہیں کہ سویرے اٹھنا ہو تو جلدی ہی سو جانا چاہیئے۔ کھانا باہر سے ہی کھا آئے تھے۔ بستر میں داخل ہوگئے۔
چلتے چلتے خیال آیا، کہ لالہ جی سے جگانے کے لیے کہہ ہی نہ دیں؟ یوں ہماری اپنی قوت ارادی کافی زبردست ہے جب چاہیں اٹھ سکتے ہیں، لیکن پھر بھی کیا ہرج ہے؟
ڈرتے ڈرتے آواز دی۔ "لالہ جی!"
انہوں پتھر کھینچ مارا "یس!"
ہم اور بھی سہم گئے کہ لالہ جی کچھ ناراض معلوم ہوتے ہیں، تتلا کے درخواست کی کہ لالہ جی، صبح آپ کو بڑی تکلیف ہوئی، میں آپ کا بہت ممنون ہوں۔ کل اگر ذرا مجھے چھ بجے یعنی جس وقت چھ بجیں۔۔۔"
جواب ندارد۔
میں نے پھر کہا "جب چھ بج چکیں تو۔۔۔ سنا آپ نے؟"
چپ۔
"لالہ جی!"
کڑکتی ہوئی آواز نے جواب دیا۔ "سن لیا سن لیا چھ بجے جگا دوں گا۔ تھری گاما پلس فور ایلفا پلس۔۔۔"
"ہم نے کہا ب۔۔۔ ب۔۔۔ ب۔۔۔ بہت اچھا۔ یہ بات ہے۔"
توبہ! خدا کسی کا محتاج نہ کرے۔
لالہ جی آدمی بہت شریف ہیں۔ اپنے وعدے کے مطابق دوسرے دن صبح چھ بجے انہوں نے دروازو ں پر گھونسوں کی بارش شروع کردی۔ ان کا جگانا تو محض ایک سہارا تھا ہم خود ہی انتظار میں تھے کہ یہ خواب ختم ہولے تو بس جاگتے ہیں۔ وہ نہ جگاتے تو میں خود ایک دو منٹ کے بعد آنکھیں کھول دیتا۔ بہر صورت جیسا کہ میرا فرض تھا۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس شکل میں قبول کیا کہ گولہ باری بند کردی۔اس کے بعد کے واقعات ذرا بحث طلب سے ہیں اور ان کے متعلق روایات میں کسی قدر اختلافات ہے بہرحال اس بات کا تو مجھے یقین ہے۔ اور میں قسم بھی کھا سکتا ہوں کہ آنکھیں میں نے کھول دی تھیں۔ پھر یہ بھی یاد ہے کہ ایک نیک اور سچے مسلمان کی طرح کلمہ شہادت بھی پڑھا۔ پھر یہ بھی یاد ہے کہ اٹھنے سے پیشتر دیباچے کے طور پر ایک آدھ کروٹ بھی لی۔ پھر کا نہیں پتہ۔ شاید لحاف اوپر سے اتار دیا۔ شاید سر اس میں لپیٹ دیا۔ یا شاید کھانسایا خراٹا لیا۔ خیر یہ تو یقین امر ہے کہ دس بجے ہم بالکل جاگ رہے تھے۔ لیکن لالہ جی کے جگانے کے بعد اور دس بجے سے پیشتر خدا جانے ہم پڑھ رہے تھے یا شاید سو رہے تھے۔ نہیں ہمارا خیال ہے پڑھ رہے تھے یا شاید سو رہے تھے۔ بہرصورت یہ نفسیات کا مسئلہ ہے جس میں نہ آپ ماہر ہیں نہ میں۔ کیا پتہ، لالہ جی نے جگایا ہی دس بجے ہو۔ یا اس دن چھ دیر میں بجے ہوں۔ خدا کے کاموں میں ہم آپ کیا دخل دے سکتے ہیں۔ لیکن ہمارے دل میں دن بھر یہ شبہ رہا کہ قصور کچھ اپنا ہی معلوم ہوتا ہے۔ جناب شرافت ملاحظہ ہو، کہ محض اس شبہ کی بنا پر صبح سے شام تک ضمیر کی ملامت سنتا رہا۔ اور اپنے آپ کو کوستا رہا۔ مگر لالہ جی سے ہنس ہنس کر باتیں کیں ان کا شکریہ ادا کیا۔ اور اس خیال سے کہ ان کی دل شکنی ہو، حد درجے کی طمانیت ظاہر کی کہ آپ کی نوازش سے میں نے صبح کا سہانا اور روح افزا وقت بہت اچھی طرح صرف کیا ورنہ اور دنوں کی طرح آج بھی دس بجے اٹھتا۔ "لالہ جی صبح کے وقت دماغ کیا صاف ہوتا ہے، جو پڑھو خدا کی قسم فورا یاد ہوجاتا ہے۔ بھئی خدا نے صبح بھی کیا عجیب چیز پیدا کی ہے یعنی اگر صبح کے بجائے صبح صبح شام ہوا کرتی تو دن کیا بری طرح کٹا کرتا۔"
لالہ جی نے ہماری اس جادوبیانی کی داد یوں دی کہ آپ پوچھنے لگے۔ "تو میں آپ کو چھ بجے جگا دیا کروں نا؟"
میں نے کہا۔ "ہاں ہاں، واہ یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔ بیشک۔"
شام کے وقت آنے والی صبح کے مطالعہ کے لیے دو کتابیں چھانٹ کر میزپر علیحدہ جوڑ دیں۔ کرسی کو چارپائی کے قریب سرکالیا۔ اوورکوٹ اور گلوبند کو کرسی کی پشت پر آویزاں کر لیا۔ کنٹوپ اور دستانے پاس ہی رکھ لیے۔ دیاسلائی کو تکیئے کے نیچے ٹٹولا۔ تین دفعہ آیت الکرسی پڑھی، اور دل میں نہایت ہی نیک منصوبے باندھ کر سوگیا۔
صبح لالہ جی کی پہلی دستک کے ساتھ ہی جھٹ آنکھ کھل گئی، نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ لحاف کی ایک کھڑکی میں سے ان کو "گڈمارننگ" کیا، اور نہیات بیدارانہ لہجے میں کھانسا، لالہ جی مطمئن ہو کر واپس چلے گئے۔ہم نے اپنی ہمت اور اولوالعزمی کو بہت سراہا کہ آج ہم فورا ہی جاگ اٹھے۔ دل سے کہا کہ "دل بھیا، صبح اٹھنا تو محض ذرا سی بات ہے ہم یوں ہی اس سے ڈرا کرتے تھے"۔ دل نے کہا "اور کیا؟ تمہارے تو یوں ہی اوسان خطا ہوجایا کرتے ہیں"۔ ہم نے کہا "سچ کہتے ہو یار، یعنی اگر ہم سستی اور کسالت کو خود اپنے قریب نہ آنے دیں تو ان کی کیا مجال ہے کہ ہماری باقاعدگی میں خلل انداز ہوں۔ اس وقت لاہور شہر میں ہزاروں ایسے کاہل لوگ ہوں گے جو دنیا ومافیہا سے بیخبر نیند کے مزے اڑاتے ہوں گے۔ اور ایک ہم ہیں کہ ادائے فرض کی خاطر نہایت شگفتگہ طبعی اور غنچہ دہنی سے جاگ رہے ہیں۔ "بھئی کیا برخوردار سعادت آثار واقع ہوئے ہیں۔" ناک کو سردی سی محسوس ہونے لگی تو اسے ذرا یو ں ہی سا لحاف اوٹ میں کر لیا اور پھر سوچنے لگے۔۔۔ "خوب۔ تو ہم آج کیا وقت پر جاگے ہیں بس ذرا اس کی عاد ت ہوجائے تو باقاعدہ قرآن مجید کی تلاوت اور فجر کی نماز بھی شروع کردیں گے۔ آخر مذہب سب سے مقدم ہے ہم بھی کیا روزبروز الحاد کی طرف مائل ہوتے جاتے ہیں نہ خدا کا ڈر اور نہ رسول کا خوف۔ سمجھتے ہیں کہ بس اپنی محنت سے امتحان پاس کرلیں گے۔ اکبر بیچارا یہی کہتا کہتا مرگیا لیکن ہمارے کان پر جوں تک نہ چلی۔۔۔ (لحاف کانوں پر سرک آیا)۔۔۔ تو گویا آج ہم اور لوگوں سے پہلے جاگے ہیں۔۔۔ بہت ہی پہلے۔۔۔ یعنی کالج شروع ہونے سے بھی چار گھنٹے پہلے۔ کیا بات ہے! خداوندان کالج بھی کس قدر سست ہیں ایک مستعد انسان کو چھ بجے تک قطعی جاگ اٹھنا چاہئے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کالج سات بجے کیوں نہ شروع ہوا کرے۔۔۔ (لحاف سر پر)۔۔۔ بات یہ ہے کہ تہذیب جدید ہماری تمام اعلی قوتوں کی بیخ کنی کر رہی ہے۔ عیش پسندی روزبروز بڑھتی جاتی ہے۔۔۔ (آنکھیں بند)۔۔۔ تو اب چھ بجے ہیں تو گویا تین گھنٹے تو متواتر مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ پہلے کون سی کتابیں پڑھیں۔ شیکسپیئر یا ورڈزورتھ؟ میں جانوں شیکسپیئر بہتر ہوگا۔ اس کی عظیم الشان تصانیف میں خدا کی عظمت کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ اور صبح کے وقت اللہ میاں کی یاد سے بہتر چیز کیا ہوسکتی ہے؟ پھر خیال آیا کہ دن کو جذبات کے محشرستان سے شروع کرنا ٹھیک فلسفہ نہیں۔ ورڈزورتھ پڑھیں۔ اس کے اوراق میں فطرت کو سکون واطمینان میسر ہوگا اور دل اور دماغ نیچر کی خاموش دلآویزیوں سے ہلکے ہلکے لطف اندوز ہوں گے۔۔۔ لیکن ٹھیک ہی رہے گا شیکسپیئر۔۔۔ نہیں ورڈزورتھ۔۔۔ لیڈی میکبتھ۔۔۔ دیوانگی۔۔۔ سبزہ زار۔۔۔ سنجر سنجر۔۔۔ بادبہاری۔۔۔ صید ہوس۔۔۔ کشمیر۔۔۔ میں آفت کا پرکالہ ہوں۔۔۔یہ معمہ اب مابعد الطبعیات ہی سے تعلق رکھتا ہے کہ پھر جو ہم نے لحاف سے سر باہر نکالا اور ورڈزورتھ پڑھنے کا ارادہ کیا تو وہی دس بج رہے تھے۔ اس میں نہ معلوم کیا بھید ہے!
کالج ہال میں لالہ جی ملے۔ "مسٹر! صبح میں نے آپ کو پھر آواز دی تھی، آپ نے جواب نہ دیا؟"
میں نے زور کا قہقہہ لگا کر کہا۔ "اوہو۔ لالہ جی یاد نہیں۔ میں نے آپ کو گڈمارننگ کہا تھا؟ میں تو پہلے ہی سے جاگ رہا تھا"۔
بولے "وہ تو ٹھیک ہے لیکن بعد میں۔۔۔ اس کے بعد!۔۔۔ کوئی سات بجے کے قریب میں نے آپ سے تاریخ پوچھی تھی، آپ بولے ہی نہیں۔"
ہم نے نہایت تعجب کی نظروں سے ان کو دیکھا۔ گویا وہ پاگل ہوگئے ہیں۔ اور پھر ذرا متین چہرہ بنا کر ماتھے پر تیوریاں چڑھائیغوروفکر میں مصروف ہوگئے۔ ایک آدھ منٹ تک ہم اس تعمق میں رہے۔ پھر یکایک ایک محجومانہ اور معشوقانہ انداز سے مسکراکے کہا۔ "ہاں ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، میں اس وقت۔۔۔ اے۔۔۔ اے، نماز پڑھ رہا تھا۔"
لالہ جی مرعوب سے ہو کر چل دیئے۔ اور ہم اپنے زہد واتقا کی مسکینی میں سر نیچا کئے کمرے کی طرف چلے آئے۔ اب یہی ہمارا روزمرہ کا معمول ہوگیا ہے۔ جاگنا نمبر ایک چھ بجے۔ جگانا نمبر دو دس بجے۔ اس دوران لالہ جی آواز دیں تو نماز۔
جب دل مرحوم ایک جہان آرزو تھا تو یوں جاگنے کی تمنا کیا کرتے تھے کہ "ہمارا فرق ناز محو بالش کمخواب" ہو اور سورج کی پہلی کرنیں ہمارے سیاہ پرپیچ بالوں پر پڑ رہی ہیں۔ کمرے میں پھولوں کی بوئے سحری روح افزائیاں کر رہی ہو۔ نازک اور حسین ہاتھ اپنی انگلیوں سے بربط کے تاروں کو ہلکے ہلکے چھیڑ رہے ہوں۔ اور عشق میں ڈوبی ہوئی سریلی اور نازک آواز مسکراتی ہوئی گا رہی ہو!
تم جاگو موہن پیارے
خواب کی سنہری دھند آہستہ آہستہ موسیقی کی لہروں میں تحلیل ہوجائے اور بیداری ایک خوشگوار طلسم کی طرح تاریکی کے باریک نقاب کو خاموشی سے پارہ پارہ کردے چہرے کسی کی نگاہ اشتیاق کی گرمی محسوس کر رہا ہو۔ آنکھیں مسحور ہو کر کھلیں اور چار ہوجائیں۔ دلآویز تبسم صبح کو اور بھی درخشندہ کردے۔ اور گیت "سانوری صورت توری من کو بھائی" کے ساتھ ہی شرم وحجاب میں ڈوب جائے۔نصیب یہ ہے کہ پہلے "مسٹر! مسٹر!" کی آواز اور دروازے کے دنادن سامعہ نوازی کرتی ہے، اور پھر چار گھنٹے بعد کالج کا گھڑیال دماغ کے ریشے ریشے میں دس بجانا شروع کردیتا ہے۔ اور اس چار گھنٹے کے عرصہ میں گڑویوں کے گر گرنے۔ دیگچیوں کے الٹ جانے، دروازوں کے بند ہونے، کتابوں کے جھاڑنے، کرسیوں کے گھسیٹنے، کلیاں اور غرغرے کرنے، کھنکھارنے اور کھانسنے کی آوازیں تو گویا فی البدیہہ ٹھمریاں ہیں۔ اندازہ کرلیجیئے کہ ان سازوں میں سرتال کی کس قدر گنجائش ہے!
موت مجھ کو دکھائی دیتی ہے
جب طبعیت کو دیکھتا ہوں میں
بُرے دوست آخرت کے لئے خطرہ!
یہ بات یاد رہے کہ بُرے دوستوں یا بُری سہیلیوں سے خطرہ صرف دنیاوی زندگی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس قسم کی دوستی کی وجہ سے لوگوں کو قیامت کے دن بھی شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔
جو لوگ قیامت کے دن عذابِ خداوندی میں گرفتار ہوں گے اس میں سے ایک گروہ کے بارے میں قرآن یوں ارشاد فرماتا ہے کہ:
“وہ آرزو کرتے ہیں کہ اے کاش! ہم دنیا میں فلاں غیر صالح شخص سے دوستی اور رفاقت نہ کرتے۔وہی تھا جس نے ہمیں گمراہی کے راستے پر ڈالا۔“(سورہ فرقان آیت نمبر 28،29)
مولائے کائنات علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“دنیا و آخرت کی بھلائی دو چیزوں میں جمع ہوتی ہے ایک رازوں کا چھپانا اور دوسری اچھے لوگوں سے دوستی  کرنا۔ اسی طرح دنیا و کی بد بختی بھی دو چیزوں میں مضمر ہے، ایک راز کا فاش کرنا اور دوسرے بُرے لوگوں کی رفاقت اختیار کرنا۔“
جو شخص بُرے لوگوں سے دوستی کرتا ہے اگرچہ ان کی فطرت اس پر اثر انداز نہ بھی ہو تب بھی اس پر ان کے طور طریقوں کا الزام آ جاتا ہے اور اگر وہ شراب خانے میں نماز بھی پڑھنے جائے تب بھی شراب خوری سے منسوب ہو جاتا ہے۔
امام صادق علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“میرے والد بزرگوار نے مجھ سے فرمایا کہ بیٹے! جو شخص بُرے لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے وہ ان کی برائی سے محفوظ نہیں رہتا اور جو شخص بدنام جگہوں پر جاتا ہے وہ بدنام ہو جاتا ہے۔“
 دوست کن کو بنائیں؟
کیونکہ ہر شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ اس کی صحبت اختیار کی جائے اور اس سے دوستی کی جا سکے کیونکہ دوستی کے لائق وہی ہوتا ہے جس میں یہ صفات پائی جائیں۔
1۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوست عاقل و باشعور ہو
کیونکہ احمق و بیوقوف شخص کی دوستی بلکل بیکار ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ س سے دوستی ہو بھی جائے تو بلآخر وحشت ہونے لگتی ہے۔احمق وہ شخص ہے جو کچھ سمجھنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو اور اسے اگر کچھ بتانے کی کوشش بھی کریں تو بھی اس کے پلے کچھ نہ پڑتا ہو۔
مولا علی علیہ اسلام فرماتے ہیں:
“کسی صورت بیوقوف کو اپنا دوست مت بناؤ“
2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوست جو خوش اخلاق اور نیک طبیعت ہو
کیونکہبد اخلاق سے کسی قسم کی سلامتی کی توقع نہیں کی جا سکتی اور جب اس کی بد اخلاقی حرکت میں آتی ہے تو اسے کسی کے حقوق پائمال کرنے میں کوئی باک نہیں ہوتا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ:
“نیک خو فاسق کی صحبت بد خو قاری سے بہتر ہے۔“
3۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوست جو نیکو کار اور صالح ہو
کیونکہ جو شخص خدا کی نافرمانی اور گناہوں میں ڈوبا رہے، اس کو خدا کا خوف نہیں ہوتا اور جس میں خدا کا خوف نہ ہو اس کی دوستی پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ نیک اور صالح لوگوں سے ملنا جلنا ہماری روحانی قوتوں کو بڑھاتا ہے،ہماری قوتِ ارادی کو مضبوط کرتا ہے۔
ایسے ہی دوست کے بارے میں شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ
“ایک دن حمام میں ایک خوشبودار مٹی ایک محبوب کے ہاتھ سے میرے ہاتھ میں آئی تو میں نے اس سے کہا کہ تو مُشک ہے یا عنبر کیونکہ تیری دلآویز خوشبو سے میں مست ہو رہا ہوں تو اس نے کہا میں تو ایک ناچیز مٹی تھی لیکن ایک مدت تک گلاب کے پھولوں کے ساتھ رہی،میرے ساتھی کے جمال نے مجھ میں اثر کیا تو میں خوشبو دار ہو گئی ورنہ میں تو وہی ناچیز مٹی ہوں۔“(ترجمہ اشعار)
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ
“سب سے زیادہ خوش نصیب وہ شخص ہے جو کریم اور صلح لوگوں سے دوستی رکھے۔“
4۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوست دنیا کا حریص اور لالچی نہ ہو
کیونکہ ایک دوست کی طبیعت دوسرے دوست کی طبیعت میں سے کچھ ایسی چیزیں چُرا لیتی ہے کہ خود اس کو بھی خبر نہ ہو گی کہ مجھ میں دوست کی کون کون سی برائیاں آ گئی ہیں۔ لٰہذا اگر دنیا کے حریص سے دوستی ہو گی تو خود دوسرے دوست میں بھی دنیا کی حرص پیدا ہو جائے گی اور اگر کسی متقی و دیندار سے دوستی ہو گی تو اس سے خود زہد و تقویٰ دوسرے میں پیدا ہو گا۔اسی وجہ سے طالبینِ دنیا کی صحبت مکروہ ہے اور راغبینِ آخرت کی دوستی پسندیدہ ہے۔
مولا علی علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“دنیا پرست لوگوں سے دوستی نہ کرو اگر تمہارے مال و دولت میں کمی واقع ہو گی تو وہ تمہیں حقارت سے دیکھیں گے اور اگر اس میں فراوانی ہو گی تو وہ رشک اور حسد میں مبتلا ہو جائیں گے۔“
5۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوست احمق، کنجوس، بزدل اور جھوٹا نہ ہو
امام محمد باقر علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“چار لوگوں سے میل جول نہ رکھو اور نہ ہی ان سے رشہ داری قائم کرو۔ احمق سے، کنجوس سے،بزدل سے اور جھوٹے سے کیونکہ
احمق۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہو گا تب بھی ناسمجھی میں نقصان پہنچا دے گا۔
کنجوس۔۔۔۔۔۔ تم سے لے گا تو سہی لیکن دے گا کچھ نہیں۔
بُزدل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معمولی مشکل کے وقت نہ صرف تمہیں بکہ اپنے والدین کو بھی چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہو گا۔
جھوٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر سچ بھی بولے گا تب بھی اس کی بات پر اعتبار نہیں کیا جا سکے گا۔
6۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوست فاسق و فاجر نہ ہو
امام جعفرِ صادق علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“فاسق سے دوستی سے ہمیشہ پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ وہ ایک لقمہ بلکہ اس سے بھی کمتر کی خاطر تجھے فوخت کرنے سے نہ چُوکے گا۔“
لوگوں نے پوچھا۔ مولا “لقمہ سے کمتر“ کا کیا مطلب ہے؟ تو فرمایا کہ محض اس کی طمع کے لئے (یعنی لقمہ حاضر نہ ہو محض امید ہو کہ شاید مل جائے)
7۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوست خوشامدی اور چاپلوسی نہ ہو
مولائے کائنات علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“خوشامدی اور چاپلوس کو اپنا دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ اپنے ناپسندیدہ اعمال کو اچھا بنا کر پیش کرے گا اور اس کی خواہش ہو گی کہ تمہارا کردار بھی ویسا ہی ہو جائے۔“
8۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوست ایسا نہ ہو جو آپ کی لغزشوں کو یاد رکھے اور خوبیاں بھول جائے
مولائے کائنات علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“ہرگز ایسے شخص کی دوستی اختیار نہ کرو جو تمہاری لغزشوں کو یاد رکھے اور تمہاری خوبیاں بھول جائے۔“
مولائے کائنات علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“وہ دوست جو کسبِ حلال اور اچھے اخلاق کے حصول میں تمہارا مددگار نہ ہو۔اگر سمجھو تو اس کی دوستی تمہارے لئے وبال ہے۔“
10۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوست تلون مزاج اور دھوکا باز نہ ہو
امیرالمومنین علیہ اسلام ارشاد فرماتے ہیں کہ
“تلون مزاج اور دھوکہ باز لوگوں کی دوستی میں بھلائی نہیں کیونکہ وہ جس رُخ کی ہوا چلے اسی رُخ کو ہو لیتے ہیں۔ جب تمہیں ان کی مدد کی ضرورت نہ ہو تو وہ بڑے سخی اور فیاض ہوتے ہیں لیکن اگر تم کسی دن ان کے محتاج ہو جاؤ تو وہ بخیل اور سخت گیر ہو جاتے ہیں۔“
11۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوست خائن، ظالم اور چغلخور نہ ہو
امام صادق علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“تین قسم کے لوگوں سے یعنی خائن، ظالم اور چغلخور کی دوستی اور رفاقت سے اجتناب کرو کیونکہ جو شخص تمہارے فائدے کی خاطر دوسروں کو دھوکہ دیتا ہے وہ ایک دن تمہیں بھی دھوکہ دے گا اور جو شخص تمہاری خاطر دوسروں پر ظلم کرے وہ ایک دن تم پر بھی ظلم کرے گا اور جو شخص دوسوں کی چُغلی تمہارے پاس کھائے وہ جلد ہی تمہاری چُغلی دوسروں کے پاس بھی کھائے گا۔“
0


ایک سوال؟
کسی عاقل کا کہنا ہے کہ جب ہم کوئی گھوڑا خریدنا چاہیں تو اس کی اچھی نسل اور طرزِ تربیت کے بارے میں اچھی طرح تحقیق کرتے ہیں لیکن کیا ہم اپنے دوست کے انتخاب میں اتنی باریک بینی سے کام لیتے ہیں؟
کیا ہمارے دوست ایک گھوڑے سے بھی زیادہ ہماری زندگی پر اثر انداز نہیں ہوتے؟

دوستوں کی اقسام
امام صادق علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ
“دلی دوست جو بھائی کی طرح ہوتے ہیں ان کی تین قسمیں ہیں۔“
1:۔ کچھ تو غذا کی طرح ہوتے ہیں کہ ان کی دوستی ضروری و ناگزیر ہے۔
2:۔ کچھ لوگ دوا کی مانند ہوتے ہیں جن کی ضرورت کبھی کبھار ہوتی ہے ( البتہ ہوتی ضرور ہے)۔
3:۔ کچھ لوگ بیماری کی طرح ہوتے ہیں جن کی ضرورت کسی بھی وقت نہیں ہوتی (بلکہ ان سے دور رہنا ضروری ہے)۔

برے دوستوں کے اثرات
جس طرح ہمارے جسم کو غذا کی ضرورت ہے جس سے ہماری قوت و طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔اسی طرح ہماری روح بھی دوستوں کی ہمنشینی سے کبھی اچھی باتیں کسب کرتی ہے اور کبھی برے دوستوں کی برائیاں ہماری روح میں سرائیت کر جاتی ہیں۔
عموماََ یہ دیکھا گیا ہے کہ نوجوان اپنی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے والوں کی روحانی اور اخلاقی حالت کا اچھی طرح جائزہ نہیں لیتے اور اپنی دوستی کا ہاتھ بھی ان کی طرف بڑھا دیتے ہیں اور پھر ان کی یہ بے توجہی ان کو حقیقی راستے سے دور تباہی اور بربادی کی طرف لے جاتی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ جوانوں کی اپنے دوستوں کی طرف فطری کشش اور جاذبیت سے بلکل صَرفِ نظر بھی نہ کی جائے لیکن ان کو دوستی کی حدود و قیود، شرائط و آداب سے بھی واقف کر دیا جائے تاکہ وہ غیر صالح اور ناپسندیدہ عناصر کے اثر و نفوذ سے بھی محفوظ رہ سکیں اور ان کی شخصیت کی بھی بے عیب پرورش ہو سکے۔

ممکن ہے آپ کے دوست بدخواہ نہ ہوں مگر!
یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنی فطرت کے تقاضوں کے تحت بچھو کی طرح ڈنک ماریں اور اپنے زہر آلودہ اخلاق کو غیر محسوس انداز میں آپ کی روح میں اتار دیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں
“انسان عملاََ اپنے دوست کی سیرت و روش کی پیروی کرتا ہے۔ پس تم میں سے ہر ایک کو نہایت دیکھ بھال کر دوست بنانے چاہیئیں۔“
مولا علی علیہ اسلام بھی اپنے ایک کلام میں نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
“شریر لوگوں سے ربط و ضبط سے پرہیز کرو کیونکہ تمہیں خبر بھی نہ ہو گی اور تمہاری طبیعت ان کی برائی قبول کر لے گی۔“

ایک تجزیہ
معاشرہ، ماحول اور دوست کس طرح ایک شخصیت پر اپنا اثر ڈالتے ہیں۔ نفسیات کے ماہرین نے اس سلسلے میں کئی تجربے کئے ہیں۔
“1953 کے موسم بہار میں کیلی فورنیا یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات نے ایک آزمائش کا اہتمام کیا اور اس سلسلے میں انہوں نے 100 افراد کو 3 روز تک اپنے زیرِ آزمائش رکھا۔
تیسرے اور آخری روز ان کا ایک ٹیسٹ لیا گیا اور ان 100 افراد کو پچاس پچاس افراد کے دو گرو میں تقسیم کر دیا گیا۔ ایک گروہ کو گروہِ آزمائش کا نام دیا گیا اور دوسرے گروہ کو گروہِ شاہد کا نام۔
گروہِ آزمائش کو 5،5 افراد کے 10 دستوں میں تقسیم کر دیا گیا اور ان میں سے ہر فرد کی میز پر ایک بٹن تھا جس کے ذریعے وہ اپنے دستے سے تعلق رکھنے والے تمام لوگوں کے جواب سے آگاہ ہو سکتا تھا لیکن اس آزمائش کا راز ایک نقطے میں پنہاں تھا اور وہ یہ کہ اس بٹن کو دبانے سے اسکرین پر جو جواب آتا تھا وہ آزمائش کرنے والوں کا اپنا بنایا ہوا جواب تھا اس دستے کے افراد کی اکثریت کا نہیں۔
درحقیقت آزمائش کرنے والوں نے ہر مسئلہ کا ایک مصنوعی جواب ایجاد کر کے آزمائش ہونے والوں میں سے ہر ایک کی رائے کو فریب دیا اور یہ لوگ اس راز سے بے خبری کی بناء پر جس جواب کو اسکرین پر دیکھتے، اسے اکثریت کی رائے سمجھتے اور اکثر افراد نے اندھا دھند اسی رائے کا اظہار کیا۔
ریاضی کے ایک سوال کا غلط جواب 89 افراد نے مصنوعی اکثریت کے فریب میں آ کر بے سوچے سمجھے دیا۔“
لہٰذا رذیل اور اوباش لوگوں سے ملنا جلنا انسان کے اندر ناپاک خیالات اور پست خواہشات پیدا کرتا ہے اور طویل مدت تک ان سے تعلقات رکھے جائیں تو یہ بات یقینی ہے کہ انسان کے اخلاق بھی پست ہو جاتے ہیں اور وہ ان کی کے خراب ماحول کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔
ایسے لوگوں سے میل جول رکھنا طاعون کی طرح ہے جو فوراََ انسان کے بدن میں سارئیت کر جاتا ہے۔
روئی آگ کے پاس رکھی جائے تو خود بخود جل اٹھتی ہے اور تجربہ شاہد ہے کہ برائی اس سے زیادہ تیزی سے انسان کی روح میں اثر کر جاتی ہے اور اس کی مثال بارود کے ایک ڈھیر کی سی ہے جو ایک شرارے سے بھڑک اٹھتا ہے اور اپنے شعلوں سے ہر چیز کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔

اپنے گھر کو سیلاب کی گزر گاہ پر تعمیر مت کیجئے؟
جس شخص کو اپنی نیکو کاری پر ناز ہو اور وہ برے دوستوں سے میل جو ترک نہ کرے تو اس کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جو اپنا گھر سیلاب کی گزر گاہ پر تعمیر کرے اور یہ سمجھے کہ سیلاب کی قوت اس کے گھر کی بنیادوں پر اثر انداز نہ ہو گی۔
وہ لڑکی جس کی سہیلیاں اچھی ہوں یا وہ لڑکے جن کے دوست نیکو کار ہوں وہ خوش نصیب ہیں کیونکہ بہت سے لوگ فقط اس وجہ سے بدبختی سے دوچار ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے دوستوں یا سہیلیوں کے انتخاب میں مکمل احتیاط نہیں برتتے۔

ہم فرض کر لیتے ہیں کہ‌ آپ بہتر شریف اور متین ہیں کہ بُروں سے ملاقات آپ کی روح پر اثر نہیں ڈالتی لیکن لوگ آپ کے بارے میں کیا کہیں گے؟ کیا وہ آپ کو انہیں کے زمرے میں شمار نہیں کریں گے کہ آپ ان سے میل جول رکھتے ہیں؟
ایک قدیم عربی مثل ہے کہ
“ایک بُرا دوست لوہار کی مانند ہے اگر تمہیں اپنی آگ سے نہ بھی جلائے تب بھی اس کی بھٹی کا دھواں تمہاری آنکھوں کو تکلیف پہنچاتا ہے۔“
04/09/2010. Powered by Blogger.