• Feed RSS
ان دنوں پُراسرار کہانیاں لکھنے کا رواج نیا نیا شروع ہوا تھا۔ چارلس ڈگنز نے اپنے ایک دوست کے مشورے سے مہینوں کے غور و فکر کے بعد ایک ناول شروع کیا جس کا نام اس نے ایڈن ڈروڈ کا اسرار رکھا۔ چارلس نے یہ کتاب 12 قسطوں میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مرتبہ ایک عجیب و غریب بات واقع ہوئی۔ ڈگنز نے ناول کے ناشر سے معاہدے میں اس بات پر زور دیا کہ اگر ناول مکمل ہونے سے پہلے اس کی موت واقع ہو جائے تو معاوضے کی تمام رقم اس کے وارثوں کو دے دی جائے۔ موت کے متعلق اس کا خدشہ مستقبل بینی کی دلالت کرتا ہے کیونکہ ڈگنز 1870 میں اس وقت مر گیا جب اس کی زیرِ تحریر کتاب کی چھ قسطیں ہی شائع ہو سکی تھیں۔ چنانچہ یہ کتاب نا مکمل رہ گئی جس سے امریکہ اور سمندر پار کے قارئین تشنہ رہ گئے۔
وہ اس پر اسرار کہانی کے انجام کے بارے میں جو چارلس ڈگنز کے ساتھ ہی قبر میں چلا گیا تھا اپنے طور پر ہی قیاس آرائیاں کرنے لگ گئے تھے۔
لیکن اس ناول کا انجام ایک خوبرو اور آوارہ گرد ناشر کو معلوم تھا جو برٹیل بورڈ کی گلیوں میں خوبصورت لڑکیوں کا پیچھا کرتا تھا۔ اس کا نام تھامس جیمز تھا۔
ایک دن اس نے ایک لڑکی کا تعاقب کیا اور وہ اس تعاقب میں اس کے گھر تک پہنچ گیا۔ لڑکی کے حُسنِ بے مثال سے متاثر ہو کر جیمز نے اس مکان کے قریب گلی کے سرے پر ایک مکان کرائے پر لے لیا۔ اسے جلد ہی معلوم ہو گیا کہ اس کے مکان کی مالکہ روحانیت کی قائل ہیں۔ جیمز ایک سال تک اس خاتون سے روحانیت کا درس لیتا رہا۔ جیمز نے اس عورت سے کوئی فیض حاصل کیا یا نہیں یہ بات اسی تک محدود ہے۔
3 اکتوبر 1872 کو اس نے مکان کی مالکہ کو بتایا کہ چارلس ڈگنز کی روح اس سے ملی ہے اور اسے اختیار دیا ہے کہ وہ اس کے نا مکمل ناول “ایڈون کا اسرار“ کو مکمل کرے۔ مالکہ مکان جیمز کے اس انکشاف پر بہت حیران ہوئی اور اس نے جیمز کو دیگر سہولتوں کے علاوہ مکان کا کرایہ بھی معاف کر دیا تاکہ وہ ناول کو آسانی سے مکمل کر سکے۔
بے شمار عینی شاہدوں کا بیان ہے کہ تھامس جیمز پر ایک عجیب عجیب قسم کا روحانی وجد طاری ہو جاتا تھا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہتا۔ اس دورے کے اختتام پر وہ اٹھ بیٹھتا تھا اور بڑی تیز رفتاری سے ناول لکھنے میں مصروف ہو جاتا۔ بعض اوقات وہ صفحوں کے صفحے لکھ جاتا۔ ایسا بھی ہوتا کہ وہ دورے کے بعد محض چند سطریں ہی لکھ پاتا۔ ایک اور عجیب بات تھی جب موسم خراب ہوتا تو وہ کچھ بھی نہیں لکھ سکتا تھا۔
تھامس کے اپنے بیان کے مطابق چارلس ڈگنز کی روح اس کے پاس آتی تھی اور اسے ناول کا بقیہ حصہ بتا جاتی تھی جسے وہ لکھتا جاتا تھا۔
جلد ہی اس عظیم منصوبے کی خبر اخبارات تک پہنچ گئی۔ جنہوں نے جیمز کے دعوے کو فراڈ قرار دیتے ہوئے صدائے احتجاج بند کی۔ ڈگنز کے نامکمل ناول کی بقیہ اقساط 31 اکتوبر 1872 کو منظرِ عام پر آئیں۔
اس وقت ڈگنز کو مرے 2 سال کا عرصہ ہو چکا تھا۔ ملک کے کئی ادیب اور نقاد اس کتاب کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اس کتاب کا اندازِ تحریر چارلس ڈگنز کے اسلوبِ تحریر سے حیرت انگیز حد تک مشابہت رکھتا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے یہ کتاب ڈگنز نے خود لکھی ہے۔
جیمز جو چند روز پہلے غیر معروف انسان تھا راتوں رات ادبی حلقوں میں مشہور ہو گیا۔ پرنگ فیلڈ اور میسا چوسٹس کے اخبارات نے اسے چارلس ڈگنز کا صحیح جانشین قرار دیا۔ بوسٹن کے ایک اخبار نے لکھا تھا مسٹر جیمز، چارلس ڈگنز کی مدد کے بغیر یہ کتاب کبھی نہیں لکھ سکتا تھا۔ کیا یہ روحانیت کے کرشمے ہیں؟ اس بارے میں کچھ بھی کہا نہیں جا سکتا۔
شرلاک ہومز کے انوکھے اور غیر فانی کردار کے خالق سر آرتھر کاٹن ڈائل نے جیمز کا اچھی طرح سے معائنہ کیا دسمبر 1967 کے فورٹ نائٹ ریویو میں اس نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا۔ جیمز اس کتاب کے لکھنے سے پہلے کوئی ادبی حیثیت نہیں رکھتا تھا اس نے ایک اوسط درجے کے پرائمری سکول میں صرف پانچویں جماعت تک ہی تعلیم پائی تھی۔ 13 سال کی عمر میں ہی اس نے سکول چھوڑ دیا تھا۔ وہ کتاب لکھنے کے بعد کوئی دوسری چیز لکھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا۔ اس نے کسی طریقے سے چارلس ڈگنز کا سلوبِ تحریر ذخیرہ الفاظ اور اندازِ فکر پر بہت غور و خوض کر کے یہ ناول مکمل کر لیا ہے۔ بلاشبہ یہ امریکہ کے ایک پریس کے ملازم کا جس نے بہت کم تعلیم حاصل کی ہے ایک ناقابلِ توجیہ اور حیرت انگیز کارنامہ ہے۔
اگر جیمز کی اس تحریر کو چارلس ڈگنز کی تحریر کی پیروڈی قرار دیا جائے تو پھر ماننا پڑتا ہے کہ اس کی یہ پیروڈی اصل سے بیحد قریب تھی۔ اس سلسلے میں کسی شک و شبہ یا مبالغے کی کوئی گنجائش نہیں۔ تھامس جیمز نے دوہرے اسرار کو جنم دیا وہ اچانک دنیا کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ وہ کب اور کہاں مرا؟ یہ کوئی بھی نہیں جانتا۔ امریکہ کی چند ایک لائبریریوں میں تھامس جیمز کی وہ کتاب اب بھی محفوظ ہے جو بقول اس کے چارلس ڈگنز کی روح نے لکھوائی تھی۔
__________________
0

بائیس آدمی اپنی جانیں بچانے کے لئے کئی مرتبہ سمندر کی غضب ناک لہروں سے نبرد آزما ہوئے اور وہ ہر جگہ کامیاب رہے۔ لندن میں بحریہ کے ضخیم ریکارڈ میں یوں تو کئی عجیب وغریب کہانیاں درج ہیں لیکن کوئی کہانی بھی اس واقعہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
یہ واقعہ 16 اکتوبر 1829 کو دو مستولوں والے جہاز مرمیڈ اور اس کے بائیس مسافروں کے ساتھ پیش آیا۔ یہ جہاز سڈنی کی خلیج کولبرے کے لئے روانہ ہوا تھا۔ ہوا موافق تھی اور چمکتا ہوا سورج سمندر کی لہروں کے پیچ و خم میں دکھائی دیتا تھا۔ جہاز مرمیڈ سمندر کی لہروں کو چیرتا ہوا اپنا راستہ بنا رہا تھا۔
اس پر اٹھارہ تجربہ کار ملاحوں کے ساتھ چار دوسرے مسافر بھی سوار تھے۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ وہ ایک ایسے سفر پر روانہ ہو رہے ہیں جو شاید سمندر کی تاریخ میں ایک بے نظیر سفر کی حیثیت اختیار کر لے گا۔
سڈنی سے روانہ ہونے کے چار دن بعد کپتان نے جہاز کا رخ قدرے نیچے کی طرف موڑ لیا۔ جہاز کے تمام مسافرے عرشے پر آرام کی نیند سو رہے تھے۔ بیرو میٹر نارمل تھا۔ بظاہر موسم بھی صاف اور نارمل تھا۔ دوپہر دو بجے سے پہلے زرد بادلوں کی ایک تہہ نے سورج کو ڈھانپ لیا۔ اس تبدیلی سے چوکنا ہو کر کپتان نے بیرومیٹر کا پھر سے معائنہ کیا۔ اس مرتبہ بیرومیٹر کا پارہ بڑی تیزی سے نیچے گر رہا تھا پھر جلد ہی طوفانی جھگڑ چلنا شروع ہو گئے۔ مرمیڈ کو اپنی جان بچانے کی فکر لاحق ہو گئی۔ بجلی کی غیر معمولی چمک سے کیپٹن خول برو نے محسوس کیا کہ وہ ایک عظیم طوفان کے خلاف نبرد آزما ہیں اور یہ کہ ان کی کوششیں بے سود ہیں۔ عرشے کے افراد مصروفِ پیکار تھے، تیز ہواؤں کی وجہ سے جہاز کا بادبان پختہ خربوزے کی طرح جھڑ گیا تھا۔
چند ہی لمحوں بعد جہاز اور اس کے مسافر گھمبیر تاریکی میں ڈوب گئے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سمندر ابل پڑا ہے۔ مسافروں کے لئے امید کی صرف ایک کرن تھی اور وہ ایک نوکیلی چٹان تھی جو جہاز سے سو گز کے فاصلے پر موجود تھی۔ جہاز ڈوب رہا تھا اور تمام مسافر اس جہاز سے نکل کر اس چٹان کی طرف جا رہے تھے۔
پھر ایک معجزہ ہوا۔ اندھیرا چھٹ گیا اور اس کی جگہ روشنی نے لے لی۔ جہاز کے تمام مسافر نوکیلی چٹان کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حادثہ میں ایک بھی جان ضائع نہیں ہوئی۔ وہ مسلسل تین دن اور تین راتیں وہیں رہے تیسرے دن سوفٹ شور نامی ایک جہاز اس آبنائے میں پہنچا اور اس نے ان بائیس مصیبت زدہ مسافروں کو سوار کرایا۔
اگلے پانچ دنوں تک کوئی خلافِ معمول واقعہ پیش نہ آیا۔ پانچویں دن جب یہ جہاز نیوگنی کے ساحل پر پہنچا تو ایک بدقسمتی کا شکار ہو گیا یہ ایک بحری رو کی زد میں آ گیا جو نقشے میں موجود نہیں تھی۔ یہ رو جہاز کو سیدھا آگے شکستہ ساحل کی چٹانوں کی طرح دھکیل لے گئی۔ جہاز کے تمام مسافروں کو بچا لیا گیا۔
اس حادثے کے آٹھ گھنٹے بعد وہ سب ایک دوسرے دو مستولوں والے جہاز گورنرریڈی پر سوار تھے۔ اس جہاز میں پہلے بھی 32 مسافر موجود تھے۔ تاہم جہاز کے عملے نے پہلے دو غرق ہونے والے جہازوں کے مسافروں کے لئے گنجائش نکال لی تھی۔
یہ جہاز سمندر کے ساتھ آہستہ آہستہ چل رہا تھا اس میں ردی قسم کی لکڑی لدی ہوئی تھی۔ کسی نا معلوم وجہ سے اس میں آگ لگ گئی۔ شعلوں نے پورے جہاز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اس لئے تمام مسافروں کو جہاز چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا۔ جہاز کے تمام مسافر ایک نا پائیدار سی کشتی میں سوار تھے ان کے ارد گرد ہزاروں میل تک سمندر پھیلا ہوا تھا۔ بظاہر ان کے بچنے کے امکانات بہت کم تھے لیکن ان کی قسمتیں حیرت انگیز حد تک اچھی تھیں۔ کیونکہ کچھ ہی دیر بعد وہاں سے آسٹریلیا کا ایک جہاز کومٹ گزرا۔ اس مرتبہ بھی جہاز کے تمام مسافروں کو بحفاظت سوار کرا لیا گیا۔
کومٹ کے مسافر ان بدقسمت مسافروں کو ٹیڑھی نظر سے دیکھنے لگے۔ گو یہ لوگ خوش قسمت تھے لیکن انہیں منحوس خیال کیا جانے لگا تھا۔
ایک ہفتے بعد اچانک کومٹ ایک زبردست طوفان میں گھر گیا اس کے تمام پتوار گر گئے۔ اور یہ مکمل طور پر طوفان کے رحم و کرم پر رہ گیا۔
جہاز کے تمام مسافر ایک لمبی سی شکستہ کشتی میں سوار ہو گئے جو تباہ شدہ جہاز کے ساتھ بندھی ہوئی تھی اور ابھی تک ناقابلِ استعمال تھی۔ جہاز کے تمام مسافروں کو اپنی اپنی جانیں بچانے کی فکر لاحق ہو گئی۔ وہ اٹھارہ گھنٹے تک تباہ شدہ جہاز کے ملبے کے ساتھ چمٹے رہے۔ حتی کہ ایک دوسرا جہاز جوپیٹر وہاں سے گزرا اس نے ان مسافروں کو بے رحم شارک مچھلیوں سے نجات دلا کر سورا کر لیا۔ اس جہاز کے کپتان نے جب مسافروں کی گنتی کی تو یہ انکشاف ہوا کہ پچھلے چاروں تباہ شدہ جہازوں کے مسافروں میں سے ایک بھی ضائع نہیں ہوا۔
ابھی اس سرگزشت کا ایک حیرت انگیز پہلو باقی ہے۔ جہاز جوپیٹر پر یارک شائر کی ایک عمر رسیدہ خاتون سارا وچی سوار تھی۔ یہ خاتون آسٹریلیا میں اپنے بیٹے کو تلاش کرنے گئی تھی جو گذشتہ پندرہ سال سے لاپتہ تھا۔ اسے اپنا بیٹا جہاز جوپیٹر پر مل گیا۔ وہ سب سے پہلے تباہ ہونے والے جہاز مرمیڈ کے مسافروں میں سے ایک تھا۔
__________________
برمودا تکون جسے شیطانی تکون کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ مثلث بحر اوقیانوس میں واقع ہے جو فلوریڈا سے شروع ہو کر برمودا اور پورٹوریکو سے ہوتی ہوئی واپس فلوریڈا پر اختتام پذیر ہوتی ہے یوں یہ ایک مثلث کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
اس مثلث کی شہرت کی وجہ اس سے جڑے ہوئے کچھ مافوق الفطرت واقعات ہیں جنہیں سائنس تو نہیں مانتی لیکن اس کے باوجود جس انداز میں ان واقعات کو پیش کیا گیا اور انہیں مافوق الفطرت مخلوقات وغیرہ سے تشبیہہ دی گئی یہ مثلث ایک عرصہ تک عالمی فورمز پر زیرِ بحث رہی۔
ان واقعات میں جو مشہور واقعات بیان کئے جاتے ہیں ان میں بحری جہازوں اور فضائی جہازوں کا پر اسرار طور پر غائب ہو جانا، انسانوں کا غائب ہو جانا وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
اس مثلث کا برمودا مثلث نام پہلی مرتبہ Vincent H. Gaddis نے 1964 میں Argosy magazine میں لکھے گئے اپنے ایک آرٹیکل میں استعمال کیا۔ اس آرٹیکل میں اس نے لکھا کہ اس خطرناک علاقے میں بہت سے بحری اور ہوائی جہاز بنا کوئی نشان چھوڑے غائب ہو گئے۔Gaddis پہلا شخص نہیں تھا جس نے اس جانب توجہ مبذول کروائی بلکہ اس سے پہلے 1952 میں George X. Sands نے اپنی ایک رپورٹ جو اس نے Fate magazine کو مہیا کی اس میں اس بارے میں کافی کچھ بتایا تھا۔ اس کے علاوہ 1969 میں John Wallace Spencer نے ایک کتاب لکھی جس کا نام Limbo of the Lost Ships ہے جس میں اس پر اسرار تکون پر تفصیل کے ساتھ بات کی گئی۔
ان سب کتابوں کے علاوہ بے شمار مضامین اور کتابیں اس حوالے سے شائع ہوئیں۔ جن میں برمودا مثلث کو ایک افسانوی حیثیت سے پیش کیا گیا۔ لیکن سائنس نے آج تک کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی بناء پر ان سب چیزوں کو رد کر دیا۔ کیونکہ یہ تمام باتیں سائنسی اصولوں سے ہٹ کر صرف اور صرف مافوق الفطرت انداز میں پیش کی گئیں۔ بہت سے مصنفین اور ناول نگاروں نے ان واقعات کو مزید نمک مرچ لگا کر اور اندازو بیان کی آرائش سے مزید پر اسرار بنا کر پیش کیا۔
اس مثلث سے جس کہانی کو سب سے پہلے منسوب کیا گیا وہ ایک مشہورو معروف بحری جہاز USS Cyclops کا غائب ہونا تھا جو 1918 میں اس کا شکار ہوا۔ 542 فٹ لمبا یہ جہاز 1910 میں بنایا گیا تھا اور یہ امریکن نیوی کو دوسری جنگِ عظیم میں بحری جہازوں کے لئے ایندھن لے جانے کا کام کرتا تھا۔ یہ جہاز Bahia،Salvador سے سپلائی لے کر Baltimore, Maryland کی جانب روانہ ہوا لیکن اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکا۔ بعد میں اس کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہو سکا کہ یہ جہاز اپنی روٹین سے ہٹ کر 3 اور 4 مارچ 1918 کو بارباڈوس میں مزید سپلائی لینے کے لئے رکا تھا۔ لیکن اس کے بعد یہ ایسا غائب ہوا کہ اپنا نام و نشان تک نہیں چھوڑا۔ اس جہاز میں عملے سمیت کل 306 مسافر سوار تھے جن میں سے کسی کا بھی کوئی سراغ نہیں ملا۔ یہ جنگِ عظیم میں امریکی نیوی کا سب سے بڑا نقصان تھا جو بغیر کسی لڑائی کے ہوا۔ یہ بلاشبہ ایک پر اسرار واقعہ تھا لیکن یہ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ واقعی برمودا مثلث کے علاقے میں ہی غائب ہوا، ہو سکتا ہے یہ جہاز بارباڈوس اور بالٹیمور کے درمیان کسی اور علاقے میں غائب ہوا ہو کیونکہ بارباڈوس اور بالٹیمور کے درمیان بے حد وسیع سمندری علاقہ ہے۔
دوسرا بڑا واقعہ جو اس سلسلے میں بیان کیا جاتا ہے وہ SS Marine Sulphur Queen Vanishes بحری جہاز کی گمشدگی کا ہے جو 1963 میں فلوریڈا کے قریب اس مثلث میں غائب ہوا۔ اس جہاز میں عملے کے 39 افراد سوار تھے لیکن ان میں سے ایک بھی نہیں ملا۔ مگر کوسٹ گارڈ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جہازاس طرح بنا ہوا تھا کہ اسے کسی وقت بھی ٹکڑوں میں تبدیل کر کے رکھا جا سکتا تھا اور یہ جہاز یقینآ سمندر میں اترا ہی نہیں تھا۔ اس کے علاوہ ماہرین کے مطابق کیونکہ یہ جہاز ایک آئل ٹینکر تھا لیکن بعد میں یہ اپنے اصلی کام سے ہٹ کر مولٹن سلفر لے جانے لگا اور اس تبدیلی کی وجہ سے یہ جہاز تباہ ہو گیا۔ بعد میں سمندر میں کسی جلے ہوئے جہاز کے آثار بھی ملے تھے۔
اس کے علاوہ 28 دسمبر 1948 کی رات ایک ہوائی جہاز NC16002 جو DC-3 مسافر بردار جہاز تھا اور سان جان San Juan (پورٹوریکو) سے میامی(فلوریڈا) جا رہا تھا غائب ہوا۔موسم بھی بلکل صاف تھا اور پائلٹ کے مطابق میامی سے 50 میل دور تھا کہ اچانک غائب ہو گیا اس میں سوار عملے کے تین اور 29 مسافروں کا کبھی بھی سراغ نہیں مل سکا۔ محکمانہ تفتیش میں یہ بات بتائی گئی کہ ٹیک آف کے وقت جہاز کی بیٹریاں مکمل طور پر چارج نہیں تھیں جو بعد میں اڑان کے دوران رابطہ سسٹم خراب ہو جانے کا سبب بنیں اور میامی سے جو میسج جہاز کو دیا گیا کہ ہوا کا رخ تبدیل ہو گیا ہے پائلٹ کو موصول نہیں ہو سکا اور وہ بروقت حفاظتی انتظام نہیں کر سکا۔
اس کے علاوہ 25 اکتوبر 1980 کو ایک اور بحری جہاز S.S.POET بھی اسی طرح پر اسرار طور پر غائب ہوا اور اپنا نام و نشان تک نہ چھوڑا لیکن تحقیق میں یہ الزام لگایا گیا کہ انشورنش کی رقم حاصل کرنے کے لئے اس جہاز کو غائب کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں سب سے بڑا واقعہ جو بے حد مشہور ہوا وہ 5 ایونجر Avenger تارپیڈو بمبار جہازوں جسے فلائٹ 19 بھی کہا جاتا تھا کا پر اسرار طور پر غائب ہو جانا تھا۔ ان جہازوں کے گروپ نے فلوریڈا کے فورٹ لاؤڈرڈیل Fort Lauderdale کے نیول ائیر بیس سے 2 بج کر 10 منٹ پر اڑان بھری یہ ایک معمول کی اڑان تھی جس کا کمانڈر لیفٹینٹ چارلس ٹیلر تھا اور باقی اس کے شاگرد شامل تھے جنہیں مشرق کی جانب 56 میل تک جانا تھا۔ لیکن یہ فاصلہ طے کرنے کے بعد کمانڈر نے مزید 67 میل مشرق کی جانب اڑنے کا کہا اور پھر وہاں سے 73 میل شمال کی جانب جا کر سیدھا واپس بیس پر آنا تھا یہ فاصلہ 120 میل کا بن گیا۔ اور یہ اضافی فاصلہ انہیں اس ٹرائی اینگل کی جانب لے گیا۔ اڑان کے تقریبا ایک گھنٹے بعد ٹیلر نے بیس کو ایک پیغام بھیجا کہ طیارے کے سمت بتانے والےآلات compasses کام نہیں کر رہے لیکن اسے خود پر یقین تھا کہ وہ فلوریڈا کے ٹاپوؤں( یہ ٹاپو فلوریڈا کے چھوٹے چھوٹے آئس لینڈز کا ایک سلسلہ ہے جو فلوریڈا کے مین جزیرے کے جنوب میں واقعہ ہیں) کے اوپر ہی کہیں اڑ رہے ہیں۔ بیس میں موجود لیفٹینٹ کاکس نے کہا کہ اگر تمہیں یقین ہے کہ تم وہاں ہو تو شمال کی جانب میامی کی طرف اڑو۔
آج کل کے جہازوں کے پاس تو اپنی موجودہ پوزیشن کو چیک کرنے کے لئے بہت سے راستے موجود ہیں جن کا مطالعہ جی۔پی۔ایس (Global Positioning Satellites) کے تحت کیا جاتا ہے اور اگر وہ ان سب آلات کو بہترین طریقے سے استعمال کرنا جانتا ہو تو ان حالات میں یہ بات تقریبا ناممکن ہے کہ کوئی پائلٹ اپنا راستہ کھو دے ۔ لیکن 1945 میں پانی پر اڑتے ہوئے اپنے ابتدائی نقطے کے بارے میں معلومات پر انحصار کیا جاتا تھا کہ وہ کتنی رفتار سے کتنی دور اور کس سمت میں اڑ رہے ہیں اور اگر پائلٹ ان میں سے کسی ایک کا بھی حساب نہیں رکھ پاتا تو وہ یقینآ گم ہو جاتا تھا سمندر کے اوپر کوئی نشانیاں نہیں تھیں جو انہیں سیدھا راستہ دکھا سکتیں۔
یہ سب جہاز 3 بجکر 45 منٹ پر غائب ہو گئے اور اس کے بعد ان کا بیس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔اس بیڑے کو بچانے کے لئے جانے والا ایک اور جہاز Martin Mariner بھی پراسرارطور پر غائب ہو گیا۔ تحیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق یہ جہاز اپنی اڑان کے کچھ ہی دیر کے بعد ایک دھماکے سے تباہ ہو گیا تھا بعد میں اس جہاز کا تیل اور ٹکڑے سطع سمندر پر تیرتے ہوئے ملے۔ اس جہاز کی تباہی کا سبب کاک پٹ میں گیس بھر جانے اور عملے کے ارکان میں سے کسی کے سگریٹ جلانے کی وجہ سے اس میں ہونے والے دھماکے کو بیان کیا گیا۔
ادھر ایونجر کی گمشدگی کے بارے میں تحقیق میں کہا گیا کہ ٹیلر سمت کے بارے میں دو راہے کا شکار تھا لیکن ٹیلر ایک ماہر پائلٹ تھا اور اس سے اس قسم کی غلطی کی کوئی توقع نہیں تھی۔ بعد میں اس تحقیق کو اس عنوان کے ساتھ بند کر دیا گیا کہ causes or reasons unknown۔
یہ واقعہ اس مثلث کی پر اسراریت کے عنوان میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔
برمودا تکون کے بارے میں مختلف تھیوریاں:۔
برمودا تکون کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جگہ ایک دروازے کی حیثیت رکھتی ہے جہاں دوسری دنیا سے آنے والی مخلوق اس دنیا میں داخل ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اسے وقت کا خلاء کہتے ہیں جہاں آنے والی ہر چیز وقت کے خلاء میں گم ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگ اسے سمندر کی تہہ میں ڈوبے ہوئے اٹلانٹس کے سگنلز کی کارستانی قرار دیتے ہیں۔ لیکن سائنس اور ماہرین اس سب کو حقیقت کے منافی اور من گھڑت افسانوں سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں۔
اس کے علاوہ اس کا ایک سبب پانی کی تیز لہروں کو قرار دیا جاتا ہے جو ہر ہونے والے حادثے کے نشان کو اس طرح صاف کر دیتی ہیں کہ ان کا نشان تک نہیں ملتا۔اس کے علاوہ ایک وجہ علاقائی موسم بھی بتایا جاتا ہے جو اچانک بادو باراں اور طوفان کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کی وجہ سے بہت سے جہاز غائب ہوتے ہیں اور اموات واقع ہوتی ہیں۔
کچھ دانشور ایک وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہاں تین سمندروں گلف آف میکسیکو، اٹلانٹک اور کیریبئن کے پانیوں کا میلاپ ہوتا ہے۔ اور ان کے پانیوں کے آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے اس میں ایسی مقناطیسی لہریں پیدا ہوتی ہیں جو اپنے اوپر سے گزرنے والی ہر چیز کو اپنی جانب کھینچ لیتی ہیں۔ اور بعد میں تیز لہریں وقت کے ساتھ ساتھ اس کا نشان مٹا دیتی ہیں۔
بعض مفکرین کے نزدیک ایک سبب یہاں اٹھارویں اور انیسویں صدی میں برطانوی اور امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی ہے جن سے لوگوں کو دور رکھنے کے لئے یہ من گھڑت قصے گھڑے گئے۔
کچھ مفکرین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہاں امریکہ نے ایسی لیبارٹریاں بنا رکھی ہیں جہاں انسانوں کے خاتمے کے لئے مہلک ترین ہتھاروں کی تیاری اور تجربات کا کام کیا جاتا ہے۔ اور لوگوں کو اس کے بارے میں پتہ نہ چلے اس لئے یہ ڈرامہ رچایا گیا۔ حقیقت کیا ہے یہ آج تک کسی تحقیق میں سامنے نہیں آ سکی۔
__________________
0
تاریخ بتاتی ہے کہ کئی ملکوں اور شہروں میں دن کے وقت اندھیرا چھا گیا۔ یہ کیوں اور کیسے ہوا؟ ماہرین فلکیات کے پیچیدہ حسابات کے مطابق زمین خلاء میں 18 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔ ماہرین کے نظریے کے مطابق خلاء بلکل خالی نہیں ہے بلکہ اس مں زمین کی حرکت اور دیگر تغیرات سے پیدا ہونے والے اربوں چھوٹے چھوٹے غیر شفاف ذرات ادھر ادھر گھوم رہے ہیں۔ اگر یہ یقین کر لیا جائے تو پھر دوپہر کے وقت اندھیرا چھانے کا مظاہرہ کسی حد تک سمجھ میں آ جاتا ہے۔
کائناتی گرد سورج کی روشنی کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے روشنی زمین تک نہیں پہنچ پاتی نتیجتآ سورج کی روشنی دھندلی اور نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔ یہ غیر معمولی مظاہرہ کسی وقت بھی ظہور پذیر ہو سکتا ہے۔ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ جب کبھی بھی عین دوپہر کے وقت اندھیرا چھایا وہ دن بادلوں سے مبرا تھا اور اس دن سورج گرہن کا بھی کوئی امکان نہ تھا۔
26 اپریل 1884 کو پیرسٹن(انگلینڈ) میں دوپہر 12 بجے کے قریب ڈرامائی طور پر اندھیرا چھا گیا۔ آسمان بلکل سیاہ ہو گیا تھا ایسا لگتا تھا متفائے بسیط پر کوئی بڑا سا سیاہ پردہ تان دیا گیا ہو۔ شہر کے لوگ پریشانی میں ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ جانور آرام کے لئے اپنی اپنی پناہ گاہوں کی طرف چلے گئے۔ عبادت گزار لوگ سجدے میں جھک گئے۔ اور پھر اندھیرا اسی تیزی سے چھٹ گیا جس تیزی سے چھایا تھا سورج کی روشنی دوبارہ زمین پر پڑنے لگی۔ اگرچہ اس مظاہرے کی کئی تعبیریں کی گئیں لیکن عوام کسی سے بھی مطمئن نہ ہو سکی۔ 12 اپریل 1889 کو اٹیکس(فرنی سوٹا)کے شہریوں کو بھی اسی طرح کی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ بھی اس کی تشریح نہ کر سکے۔
19 اگست 1763 کی صبح لندن بھی تاریکی میں ڈوب گیا۔ اس مرتبہ اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ لوگوں نے لالٹینیں اور موم بتیاں روشن کر لیں۔ ماہرین فلکیات کے زائچوں کے مطابق اس روز سورج گرہن کا کوئی امکان نہیں تھا۔
19 مارچ 1886 کو اوشکائیش میں بھی ایسا ہی ہوا۔ دن کے 3 بجے نامعلوم وجوہ کی بنیاد پر سارا شہر تاریکی میں ڈوب گیا۔ یہ صورت تقریبآ 10 منٹ تک رہی۔ اس دوران آسمان پر سیاہی مائل دھبہ ہوا کے دوش پر مغرب سے مشرق کی طرف اڑتا ہوا دکھائی دیا۔ جب شہر میں سورج کی روشنی عود کر آئی تو پتہ چلا کہ مغرب کے شہروں کو بھی اسی قسم کی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
4 دسمبر 1904 کو ممفس(ٹینسن) کے لوگ معمول ک مطابق اپنا کام کر رہے تھے۔ صبح کے 10 بجے اچانک سورج غائب ہو گیا جس کی وجہ سے مکمل تاریکی چھا گئی۔ یہ تاریکی پندرہ منٹ تک چھائی رہی۔ تاریکی کے یہ 15 منٹ شہر کے لوگوں کے لئے خوف و ہراس کے لمحات تھے۔ شہر کے بعض حصوں میں تو لوگوں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا تھا۔ بعض دیندار لوگ تو سجدے میں گر گئے انہیں یقین ہو گیا تھا کہ یہ قربِ قیامت کی نشانی ہے۔ شاید نفسیاتی وجوہ کی بنیاد پر اس قلیل الوقوع لیکن خوفناک مظاہرے کا ذمہ دار جنگل کی آگ ، غیر معمولی بادل اور دور کے ریگستانوں کی دھول کو ٹھہرایا گیا۔یہ تشریح بعض موقعوں پر تو تسلیم کر لی گئی مگر بعض دوسرے موقعوں پر یہ بلکل بیکار ثابت ہوئی۔ نتیجتآ قدرت کے اس پر اسرار مظاہرے کی تشریح متنازع ہی رہی۔
اسی طرح کا ایک واقع 24 ستمبر 1950 میں بھی پیش آیا جب تقریبآ تمام ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں سورج کا رنگ پر اسرار طور پر نیلا پڑ گیا ایسا لگتا تھا جیسے سورج کی روشنی کسی نیلے فلٹر سے چھن کر آ رہی ہے۔
26 ستمبر کو سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ میں بھی سورج سبزی مائل نیلا دکھائی دیا۔ ڈنمارک میں یہ صورتِ حال کوئی 2 گھنٹے تک رہی۔ لوگ اس قدر خوفزدہ ہو گئے کہ انہیں یقین ہو گیا کہ قیامت آ گئی ہے چنانچ بنکوں کے سامنے اپنا ریسیونگ اکاونٹس نکلوانے کے لئے لوگوں کی لمبیلمبی قطاریں لگ گئیں۔
عوام کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی کہ سورج کی یہ غیر معمولی کیفیت اس دھوئیں کی بدولت ہے جو البرٹا(کینیڈا) کے جنگل میں آگ لگنے کی وجہ سے فضا میں چھا گیا تھا۔ لیکن اس تشریح میں بھی ایک خامی تھی۔
اگر اس پر اسرار مظاہرے کا ذمہ دار دھواں ہی تھا تو وہ ایک ہی وقت میں امریکہ کے مشرقی حصوں کو بھی تاریک کر رہا تھا اور واشنگٹن کی طرف کے مغربی حصے کو بھی۔ یہ انوکھی ہوا تھی جو دھوئیں کو دو مخالف سمتوں میں پھیلا رہی تھی۔
__________________
04/09/2010. Powered by Blogger.